چین کی سمندری معیشت کا حجم پہلے تین سہ ماہیوں میں 8.5 ٹریلین یوآن، سالانہ شرح نمو 4.9 فیصد

0

بیجنگ :چین کی وزارتِ قدرتی وسائل نے اعلان کیا کہ رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران ملک کی سمندری معیشت مجموعی طور پر مستحکم رہی، ترقی کا رجحان جدت اور معیار کی بہتری کی جانب گامزن رہا، جبکہ اس شعبے کی ترقیاتی صلاحیت مسلسل نمایاں ہوئی ہے۔ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی سمندری معیشت کی مجموعی پیداوار 8.5 ٹریلین یوآن رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.9 فیصد زیادہ ہے۔ یہ شرح نمو جی ڈی پی کی شرح سے 0.3 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔ قومی معیشت میں ترقی کے ایک اہم محرک کی حیثیت سے سمندری معیشت نے مجموعی ملکی پیداوار کی نمو میں 0.4 فیصد پوائنٹ کا اضافہ کیا۔اس عرصے میں چین کے بحری جہازوں کے نئے آرڈرز، تکمیل شدہ آرڈرز اور زیرِ تکمیل آرڈرز، تینوں اشاریوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہا۔ ان میں بالترتیب 98.5 فیصد، 35 فیصد اور 41.9 فیصد کا سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی منڈی میں چین کا حصہ مسلسل پہلے نمبر پر رہا۔ سمندری نقل و حمل کی صنعت نے بھی مستحکم ترقی کی۔ پہلی تین سہ ماہیوں میں ساحلی بندرگاہوں پر کنٹینروں کی مجموعی نقل و حرکت میں 4.7 فیصد، جبکہ سامان کی مجموعی ترسیل میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا۔ سمندری سیاحت کی صنعت بھی مستحکم رہی۔اسی عرصے میں چین میں سمندری انجینئرنگ کے آلات کے نئے آرڈرز کی مالیت 20.1 ارب امریکی ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 123.3 فیصد زیادہ ہے۔ عالمی منڈی میں اس شعبے میں چین کا حصہ 83.8 فیصد تک پہنچ گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.